17 ستمبر 2010 - 19:30

برطانوی نائب وزیراعظم نِک کلیگ نے بھی عراق پر جنگ مسلط کرنے کو غیر قانونی اور تباہ کُن فیصلہ قرار دے دیا۔

ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کا کہنا ہے کلیگ کے خیالات حکومت کی پالیسی نہیں۔نِک کلیگ نے یہ ریمارکس ڈیوڈ کیمرون کے دورہ امریکا کی وجہ سے غیر حاضری میں پہلی بار برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں( دارالعوام) میں قائم مقام وزیراعظم کے طور پر سوال و جواب کے سیشن میں حصہ لیتے ہوئے دیے۔ کلیگ نے دو ہزار ایک سے دو ہزار چھ تک وزیر خارجہ رہنے والے جیک اسٹرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تک کے سب سے تباہ کُن فیصلے یعنی غیر قانونی عراق جنگ میں اپنے کردار کا حساب دیں۔ کلیگ کا تعلق لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جو کنزرویٹیو پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت کا حصہ ہے۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت کنزرویٹیو پارٹی کے اکثر اراکین نے عراق جنگ کی حمایت کی تھی۔ وزیراعظم ہاؤس یعنی ٹین ڈاؤنننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے وضاحت کی کہ کلیگ سمیت ہر ایک کو اپنی ذاتی رائے دینے کی آزادی ہے۔ مگر اتحادی حکومت نے عراق جنگ کے قانونی یا غیر قانونی ہونے پراپنی کوئی رائے پیش نہیں کی۔گزشتہ روز برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ نے بھی عراق جنگ کو غلط قراردیتے ہوئے اسے انتہاپسندی بڑھنے اور برطانیہ کے اندر دہشت گردوں کو جنم دینے کا سبب قرار دیا تھا۔دارالعوام میں جیک اسٹرا اور نک کلیگ کے درمیان نوک جھونک افغان جنگ پر بھی جاری رہی۔ کلیگ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے انخلا کا ٹائم ٹیبل پتھر پر لکیر نہیں مگر دو ہزار پندرہ تک وہاں سے فوجی مشن ختم کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔وزیراعظم کیمرون نے واشنگٹن میں بی بی سی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر حالات میں بہتری آئی تو افغانستان سے برطانوی فوج کا انخلا اگلے سال شروع ہوسکتا ہے۔

...........

/110